Author name: ahmadusmanlove07@gmail.com

category 3, Uncategorized

میرا پیا پردیسی تھا انتظار جوانی نکل گیا

میری شادی 9 سال پہلے فرانس کے لڑکے سے ہوئی میں مان نہیں رہی تھی لیکن گھر والوں نے رشتہ کردیا کہ لڑکا کھاتا پیتا ہےشادی ہوئی رخصتی بھی ہوگئ لڑکا 15 دن رہا اور پھر واپس چلا گیاپہلے 2 سال اسنے بہت فون کیے پھر آہستہ بات چیت کم ہوگئ جب بھی آنے کا پوچھتی تو لڑائی ہو جاتی اور پھر 6 ماہ تک خاموشی مجھے مہینے بعد میری ساس کبھی 2000کبھی 5000 دے دیتی گھر کے سب لوگوں کی زمینداری مجھ پر تھی ہر رشتے کو 9 سال تک نبھایا کہ آج شوہر آئے گا کل آئیگا والدین اسی دوران چل بسےابھی کچھ دیر پہلے شوہر نے بتایا تم عمرہ کر آؤ والدین کے ساتھ میں خوش ہوئی اور شوہر کی واپسی کی بہت دعائیںکیاس نے مجھے کہا میں جلد آؤنگالیکن پھر ایک دن مجھے کال کی مجھے ضروری بات کرنی ہے مینے سارا دن انتظار کیا اور کہا مینے یہاں پر ایک شادی کر لی تھی کیونکہ یہاں رہنا بہت مشکل تھا ابھی کچھ مسائل ایسے ہیں میں پاک نہی آسکتا نا تمہیں بلا سکتا ہوں تمہارا دل کرے تو رہ لو تمہارے دل کرے تو طلاق لے لو میں یہاں ہر خوش ہوںمینے کوئی جواب نہیں دیا کال 40 منٹ چلی اور بند ہوگئکوئی ماں نہیں تھی جسے گلے لگا کر روتی کوئی سہار انہیں تھا جسے دکھ بتا سکتییہ کیسی شادی تھییہ کیسا سہاگ تھایہ کیسی زندگی تھیآج بھی فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں میری رہنمائی فرمائیں میں صبر کروںیا کسی اور راستے پر چل نکلوں نوٹ اس پوسٹ کو اس لیے شیئر کریں جب ابروڈ کا رشتہ کریں یہ طے کریں لڑکا ساتھ لے کر جائیگانکاح کے بعد جب تک پیپر بن نا جائیں رخصتی نا کریں ۔

Uncategorized

میں جینا چاہتا ہوں لیکن کوئی امید نہیں۔

میرا تعلق کراچی پاکستان سے ہے لیکن اس وقت دوبئی میں ہوں میں سچ کی بیس پر رشتہ طے کرنا چاہتی ہوںمیری عمر 21 سال تھی جب میری شادی ہوگئ والد کراچی کے ایک تاجر تھے2015میری فیملی رات کو ایک ٹرپ سے واپس آرہی تھی تو ڈاکوں نے بابا اور میرے شوہر کو قتل کر دیاوقت بہت مشکل تھا شادی کے لیےکوئی راضی نہیں ہوتا تھاتو ایک بزنسمین جو کے لاہور کے بہت فیمس ہوٹل کے اونر ہیں ان سے دوسری شادی ہوگئ میں یہ بات بتا دوں یہ رشتہ میرے ایک دوست نے بتایا تھا تو طے ہوگیا ہمارا نکاح مکہ میں ہوا 2 سال کا وقتاتنا مشکل گزرا کہ بتایا نہیں جا سکتا روز کی مار پیٹ اور گندی گالیاں سن کر تنگآکر مینے فیصلہ کیا مینے خلع لی اوررئیل اسٹیٹ ک بزنس کرنا شروع کیا بعد میں مینے سوچا میں پاکستان نہیں رہوں گی کچھ عرصہ محنت کی میں دوبئی چلے گئوہاں بزنس شروع کیا اللہ پاک نے خیر کی والدہ کے کہنے پر مینے پھر شادی کا سوچنا شروع کیاجسے بھی یہ بتایا میرے ساتھ یہ حادثہ ہوا ہے ہے اس نے چلنے سے انکار کر دیا پھر ایک ایسا انسان ملا جس نے مجھے ہر وہ امید دی جس نے مجھے جینا سکھایا اور اسنے یہ احساس دلایا زندگی خوبصورت ہےپھر اس کے ساتھ میرا یہ تیسرا نکاح تھا ہم لوگ 1 مہینہ ساتھ رہے اور اس نے مجھے طلاق کے پیپر تھما دیے میں عدت کیسے پوری کرتی یہ میری تیسری عدت تھی اور یہ وقت ایسا نا تھا کہ میں یہاں خود کو سنبھال پاتی مینے سیونگ دیکھی تو رمضان شروع ہوچکا تھا اللہ پاک کے گھر جا کر ہر گناہ سے توبہ کی قسمت کا رونا رویا نصیب کے شکوہ کیےمینے تیسری شادی صرف اولاد کے لیے کی تھیمجھے دوستوں نے کہا تھا سچ نا بتانا ورنہ کوئی مرد نہیں اپنائے گااللہ کی قسم ان تین مردوں نے میری زندگی سے میری ہر خواہش چھین لیاللہ پاک سے بہت گلے کیے توبہ کی رو رو کر جیون ساتھی مانگا لیکن سمجھ نہیں آتا کہاں جاؤں کیا کروں کس سے کہوں کے وہ میر احوصلہ یا امید بن جائے مجھے سمجھ نہیں آتی کیسے ایک نئے مرد کا انتخاب کروںمجھے کون مرد اب زندگی کی خوشیاں عطا کریگا ۔ میرے لیے دعا کریں کوئی بہترین مشورہ دیںمیں اب اس نتیجے پر پہنچی ہوں شادی نا کروں کوئی بچہ اڈاپٹ کر لوں اور اسے ایک اچھا انسان بناؤں لیکن ایسا بھی ممکن نہیں ہےعورتوں کی زندگی بہت تنگ ہے مرد ساتھ رہنا چاہتے ہیں نکاح نہیں کرنا چاہتے میں صرف نکاح چاہتی ہوں زندگی چاہتی ہوں بس جینا چاہتی ہوں میری رہنمائی فرمائیں

Uncategorized

رشتہ کرتے وقت جانچ پڑتال لازمی کریں۔

لاہور کی ایک معروف بزنس کلاس اور پیری فقیری والی فیملی کے ظلم کا دردناک واقعہاس خاندان کے لاکھوں مرید تھے، بیٹا امریکہ میں رہتا تھا۔ پیر صاحب نے اپنے ایک عقیدت مند کی ڈاکٹر بیٹی کا رشتہ خود اپنے بیٹے کے لیے مانگا۔ بڑی شان و شوکت سے شادی ہوئی، لڑکا بیوی کو لے کر دبئی ہنی مون پر گیا۔ ہنی مون کے دوران شوہر کی جب بھی کال آتی، وہ باہر جا کر بات کرتا—بیوی کو کبھی شک نہ ہونے دیا۔ایک دن اتفاق سے لڑکا سویا ہوا تھا اور فون بجنے لگا۔ بیوی نے کال اٹھائی تو دوسری طرف اس کے شوہر کے بچے تھے۔ لڑکی نے فوراً اپنے والدین کو بتایا۔ انہوں نے سمجھایا کہ دبئی میں کوئی بات مت کرنا، واپس آ جاؤ پھر دیکھتے ہیں۔ پاکستان پہنچ کر جب بات کی گئی تو پیر صاحب نے حیرت انگیز طور پر کہا: “بیٹے کی پہلے شادی تھی… طلاق ہو چکی ہے، اب وہ اپنے بچوں سے بات کرتا ہے، آپ فکر نہ کریں۔” لڑکی کے والد نے بے بسی سے پوچھا کہ یہ بات پہلے کیوں نہ بتائی گئی؟لڑکی کو واپس گھر لے آئے۔ اللہ نے اسے ایک بیٹا دیا لیکن اس پیر فیملی نے بچہ دیکھا تک نہیں—اور فوری طلاق بھیج دی۔ لڑکی کے والد، جو کہ 21 گریڈ کے آفیسر ہیں، خود کہتے ہیں: “ہم اتنے بااثر ہونے کے باوجود اپنی بیٹی کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ بیٹا گود لے لیں گے، بس ہماری بیٹی کے لیے اچھا انسان چاہیے جو اسے قبول کر لے۔” سبق: رشتہ کرتے وقت اندھا یقین نہ کریں—چاہے سامنے والا خاندان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ هر حال میں لڑکے سے براہِ راست سوال کرنا ضروری ہے۔ بیٹیوں کی زندگی صرف ایک غلط اعتماد سے برباد ہو سکتی ہے۔ پیری فقیری، بڑے عہدے، دولت… سب سے پہلے چیک کرنا چاہیے کہ انسان کی نیت اور کردار کیا ہے۔

urgent rishta
Uncategorized

ذات پات نے میرا سب کچھ لے لیا

میری عمر 42 سال ہے۔ میرا تعلق ایک راجپوت خاندان سے ہے—ایسا خاندان جہاں نسلوں سے کاسٹ کے باہر شادی نہیں کی جاتی۔ جب میں 23 سال کی تھی اور پڑھائی کے لیے بیرونِ ملک جا رہی تھی تو والد نے مجھے رخصت کرتے ہوئے بس ایک ہی بات کہی: “پڑھنا تمہارا شوق ہے، جہاں مرضی پڑھ لو… لیکن شادی ہم اپنی مرضی سے ہی کریں گے۔” میں نے بھی اعتماد سے کہا: “بابا آپ فکر نہ کریں، میں آپ کے فیصلے پر کبھی آنچ نہیں آنے دوں گی۔” یوں میں امریکہ روانہ ہوگئی۔ وہاں دنیا دیکھی، دوستیاں ہوئیں، پاکستانی لڑکوں سے دعا سلام بھی ہوئی، مگر ہر نئے راستے پر والد سے کیا ہوا وعدہ میرے قدم روک دیتا تھا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے سات سال گزر گئے۔ پاکستان واپس آئی تو گھر والوں نے رشتے دیکھے مگر کوئی بات نہ بن سکی۔ پھر واپس امریکہ جانا پڑا۔ اس کے بعد ہر دو سال بعد پاکستان جاتی مگر ہر بار اچھا رشتہ ہاتھ سے نکل جاتا۔اس دوران اپنے سے چھوٹے بہن بھائیوں کی شادیاں دھوم دھام سے ہوئیں۔ میں نے ہر ممکن ساتھ دیا—موبائل فون سے گاڑی تک، ہر سہولت ان کی جھولی میں ڈالی۔ پھر والدہ دنیا سے رخصت ہو گئیں اور گھر کی رونقیں جیسے ادھوری ہو گئیں۔ وقت کے ساتھ ایک حقیقت دل میں چبھنے لگی کہ جب میں پاکستان جاتی ہوں تو بہت سے گھر والے مجھے صرف “مشین 🏧” سمجھتے ہیں… جذبات اور خواہشات والی بیٹی نہیں۔ کچھ دن پہلے والد کی کال آئی: “بیٹا… کوئی ہو تو اپنی پسند سے شادی کر لو۔” یہ جملہ سنتے ہی میری آنکھوں سے آنسو رکے نہیں۔ میں نے ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ کہا: “بابا… اب کون سی شادی؟ میری عمر 42 سال ہو چکی ہے۔ اب میں کس سے شادی کروں؟” میں نے آپ کو دیا ہوا وعدہ نبھا دیا۔میں نے اپنی جوانی، اپنی خواہشیں، اپنا دل—سب کچھ قربان کر دیا۔لیکن بدلے میں زندگی نے ساتھ نہ دیا، نہ ہی کوئی ہمسفر ملا۔ آج یہ کہانی میں اس پلیٹ فارم پر اس لیے لکھ رہی ہوں کہ میرے جیسی بے شمار بیٹیاں ہیں جو خاندان کی سخت رسموں، ذات پات کے چکروں اور “لوگ کیا کہیں گے” کی دیواروں کے نیچے اپنی پوری جوانی قربان کر دیتی ہیں۔اور جب عمر نکل جائے تو اُنہیں کہا جاتا ہے:“اب اپنی پسند کر لو۔” میں نے والدین سے ہمیشہ محبت کی، کبھی اُن پر انگلی نہیں اٹھائی، نہ ہی اٹھا سکتی ہوں۔ وہ میری جنت ہیں۔لیکن اک درخواست ہے: تمام والدین سے گزارش ہے: ذات پات کا سسٹم ختم کریں۔اپنی بیٹیوں کے لیے سختیاں نہ بنائیں۔اگر انہیں کوئی پسند آئے تو مکمل جانچ پڑتال کر کے رشتہ کریں، مگر ان کی زندگی برباد نہ ہونے دیں۔ میں ایک کامیاب عورت ہوں، میری ماہانہ تنخواہ 18,000 امریکی ڈالر ہے، عزت ہے، مقام ہے—مگر زندگی کا کوئی ساتھی نہیں…خوبصورتی وقت کے ساتھ ماند پڑ گئی…اور بہن بھائی اپنی اپنی زندگیوں میں خوش ہیں۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔شادی کی عمر کب گزر جائے—پتہ ہی نہیں چلتا۔ آخر میں، اپنی جیسی تمام عورتوں کو میرا سلام، محبت اور گلے لگانا۔میں جانتی ہوں تم بھی میری طرح بہت کچھ سہہ رہی ہو۔اللہ پاک سب کو آسانیاں اور ہدایت دے۔آمین۔

Scroll to Top