urgent rishta

ذات پات نے میرا سب کچھ لے لیا

میری عمر 42 سال ہے۔ میرا تعلق ایک راجپوت خاندان سے ہے—ایسا خاندان جہاں نسلوں سے کاسٹ کے باہر شادی نہیں کی جاتی۔ جب میں 23 سال کی تھی اور پڑھائی کے لیے بیرونِ ملک جا رہی تھی تو والد نے مجھے رخصت کرتے ہوئے بس ایک ہی بات کہی:

“پڑھنا تمہارا شوق ہے، جہاں مرضی پڑھ لو… لیکن شادی ہم اپنی مرضی سے ہی کریں گے۔”

میں نے بھی اعتماد سے کہا:

“بابا آپ فکر نہ کریں، میں آپ کے فیصلے پر کبھی آنچ نہیں آنے دوں گی۔”

یوں میں امریکہ روانہ ہوگئی۔

وہاں دنیا دیکھی، دوستیاں ہوئیں، پاکستانی لڑکوں سے دعا سلام بھی ہوئی، مگر ہر نئے راستے پر والد سے کیا ہوا وعدہ میرے قدم روک دیتا تھا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے سات سال گزر گئے۔ پاکستان واپس آئی تو گھر والوں نے رشتے دیکھے مگر کوئی بات نہ بن سکی۔ پھر واپس امریکہ جانا پڑا۔

اس کے بعد ہر دو سال بعد پاکستان جاتی مگر ہر بار اچھا رشتہ ہاتھ سے نکل جاتا۔
اس دوران اپنے سے چھوٹے بہن بھائیوں کی شادیاں دھوم دھام سے ہوئیں۔ میں نے ہر ممکن ساتھ دیا—موبائل فون سے گاڑی تک، ہر سہولت ان کی جھولی میں ڈالی۔ پھر والدہ دنیا سے رخصت ہو گئیں اور گھر کی رونقیں جیسے ادھوری ہو گئیں۔

وقت کے ساتھ ایک حقیقت دل میں چبھنے لگی کہ جب میں پاکستان جاتی ہوں تو بہت سے گھر والے مجھے صرف “مشین 🏧” سمجھتے ہیں… جذبات اور خواہشات والی بیٹی نہیں۔

کچھ دن پہلے والد کی کال آئی:

“بیٹا… کوئی ہو تو اپنی پسند سے شادی کر لو۔”

یہ جملہ سنتے ہی میری آنکھوں سے آنسو رکے نہیں۔ میں نے ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ کہا:

“بابا… اب کون سی شادی؟ میری عمر 42 سال ہو چکی ہے۔ اب میں کس سے شادی کروں؟”

میں نے آپ کو دیا ہوا وعدہ نبھا دیا۔
میں نے اپنی جوانی، اپنی خواہشیں، اپنا دل—سب کچھ قربان کر دیا۔
لیکن بدلے میں زندگی نے ساتھ نہ دیا، نہ ہی کوئی ہمسفر ملا۔

آج یہ کہانی میں اس پلیٹ فارم پر اس لیے لکھ رہی ہوں کہ میرے جیسی بے شمار بیٹیاں ہیں جو خاندان کی سخت رسموں، ذات پات کے چکروں اور “لوگ کیا کہیں گے” کی دیواروں کے نیچے اپنی پوری جوانی قربان کر دیتی ہیں۔
اور جب عمر نکل جائے تو اُنہیں کہا جاتا ہے:
“اب اپنی پسند کر لو۔”

میں نے والدین سے ہمیشہ محبت کی، کبھی اُن پر انگلی نہیں اٹھائی، نہ ہی اٹھا سکتی ہوں۔ وہ میری جنت ہیں۔
لیکن اک درخواست ہے:

تمام والدین سے گزارش ہے:

ذات پات کا سسٹم ختم کریں۔
اپنی بیٹیوں کے لیے سختیاں نہ بنائیں۔
اگر انہیں کوئی پسند آئے تو مکمل جانچ پڑتال کر کے رشتہ کریں، مگر ان کی زندگی برباد نہ ہونے دیں۔

میں ایک کامیاب عورت ہوں، میری ماہانہ تنخواہ 18,000 امریکی ڈالر ہے، عزت ہے، مقام ہے—
مگر زندگی کا کوئی ساتھی نہیں…
خوبصورتی وقت کے ساتھ ماند پڑ گئی…
اور بہن بھائی اپنی اپنی زندگیوں میں خوش ہیں۔

وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔
شادی کی عمر کب گزر جائے—پتہ ہی نہیں چلتا۔

آخر میں، اپنی جیسی تمام عورتوں کو میرا سلام، محبت اور گلے لگانا۔
میں جانتی ہوں تم بھی میری طرح بہت کچھ سہہ رہی ہو۔
اللہ پاک سب کو آسانیاں اور ہدایت دے۔
آمین۔

Scroll to Top