میرا تعلق کراچی پاکستان سے ہے لیکن اس وقت دوبئی میں ہوں میں سچ کی بیس پر رشتہ طے کرنا چاہتی ہوں
میری عمر 21 سال تھی جب میری شادی ہوگئ والد کراچی کے ایک تاجر تھے
2015
میری فیملی رات کو ایک ٹرپ سے واپس آرہی تھی تو ڈاکوں نے بابا اور میرے شوہر کو قتل کر دیا
وقت بہت مشکل تھا شادی کے لیےکوئی راضی نہیں ہوتا تھا
تو ایک بزنسمین جو کے لاہور کے بہت فیمس ہوٹل کے اونر ہیں ان سے دوسری شادی ہوگئ
میں یہ بات بتا دوں یہ رشتہ میرے ایک دوست نے بتایا تھا تو طے ہوگیا ہمارا نکاح مکہ میں ہوا
2 سال کا وقت
اتنا مشکل گزرا کہ بتایا نہیں جا سکتا روز کی مار پیٹ اور گندی گالیاں سن کر تنگ
آکر مینے فیصلہ کیا مینے خلع لی اور
رئیل اسٹیٹ ک بزنس کرنا شروع کیا بعد میں مینے سوچا میں پاکستان نہیں رہوں گی کچھ عرصہ محنت کی میں دوبئی چلے گئ
وہاں بزنس شروع کیا اللہ پاک نے خیر کی والدہ کے کہنے پر مینے پھر شادی کا سوچنا شروع کیا
جسے بھی یہ بتایا میرے ساتھ یہ حادثہ ہوا ہے ہے اس نے چلنے سے انکار کر دیا
پھر ایک ایسا انسان ملا جس نے مجھے ہر وہ امید دی جس نے مجھے جینا سکھایا اور اسنے یہ احساس دلایا زندگی خوبصورت ہے
پھر اس کے ساتھ میرا یہ تیسرا نکاح تھا ہم لوگ 1 مہینہ ساتھ رہے اور اس نے مجھے طلاق کے پیپر تھما دیے
میں عدت کیسے پوری کرتی یہ میری تیسری عدت تھی اور یہ وقت ایسا نا تھا کہ میں یہاں خود کو سنبھال پاتی مینے سیونگ دیکھی تو رمضان شروع ہوچکا تھا اللہ پاک کے گھر جا کر ہر گناہ سے توبہ کی قسمت کا رونا رویا نصیب کے شکوہ کیے
مینے تیسری شادی صرف اولاد کے لیے کی تھی
مجھے دوستوں نے کہا تھا سچ نا بتانا ورنہ کوئی مرد نہیں اپنائے گا
اللہ کی قسم ان تین مردوں نے میری زندگی سے میری ہر خواہش چھین لی
اللہ پاک سے بہت گلے کیے توبہ کی رو رو کر جیون ساتھی مانگا لیکن سمجھ نہیں آتا کہاں جاؤں کیا کروں کس سے کہوں کے وہ میر احوصلہ یا امید بن جائے
مجھے سمجھ نہیں آتی کیسے ایک نئے مرد کا انتخاب کروں
مجھے کون مرد اب زندگی کی خوشیاں عطا کریگا ۔
میرے لیے دعا کریں کوئی بہترین مشورہ دیں
میں اب اس نتیجے پر پہنچی ہوں شادی نا کروں کوئی بچہ اڈاپٹ کر لوں اور اسے ایک اچھا انسان بناؤں لیکن ایسا بھی ممکن نہیں ہے
عورتوں کی زندگی بہت تنگ ہے مرد ساتھ رہنا چاہتے ہیں نکاح نہیں کرنا چاہتے میں صرف نکاح چاہتی ہوں زندگی چاہتی ہوں بس جینا چاہتی ہوں
میری رہنمائی فرمائیں